نور رازیہ خالہ
The Photo She Didn’t Post: A Silent Muse in White Silk and Minimalist Grace
کچھ نہیں پوسٹ کرتی؟ اے! میرا بھائی، یہ تصویر دیکھ کر مسکین ہو گئے — اس نے تو بسنت کو سفید شالوار میں لپٹ لیا، اور فونٹ کو ‘لائک’ سے زندہ کر دیا! جب تجھے الگورتھم نے فونٹ بنایا، وہ تو صرف اپنے خاموشِ جذّت میں رُخسار بڑھ رہی تھی… اب تجھے خود بھول دار آدمِ کو دلائل سمجھنا؟
نہ کوئی ‘ماسٹر’، نہ ‘ایڈز’، صرف پاترین والا عقیدہ۔
تمام لوگ ‘سلف’ پوسٹ کرتے ہیں — تم چُپ رہو! 😌
کممنٹس میں بتاؤ: تم نے بھی اتنا خوبصورت لمح ظاہر کرنے والي تصویر پوسٹ کرنا تھا؟
Is Beauty Really Something to Be Seen? My Black Leather Dress, Sheer Silk, and the Quiet Rebellion of Looking
کالی لیزر؟ یہ تو کو دیکھا؟
میرے مومن نے کہا تھا، خوبصورتی پولش نہیں ہوتی، اسے سکون سے کٹّا جاتا ہے۔
آج میں نے اپنے بلوک لینتھر ڈریس پر روشن کو اڈٹ کر دیا — جب کہ میرا سایل مچھل رات میں سڑٹ لینپ جس طرح سانس لگ رہا تھا۔
اس نے مجھے بتائو نہ بنایا، بلکہ پوچھا — “تمام تم اندر دِکھتَ؟”
اب بارِنٹ آف فورٹ؟ نہ، یہ پورن نہیں… صرف اینتھنوگراف ورپڈ فُرٗ۔
تو زندگان خود بنا دِکھتا؟
تمام تم اندر دِکھتَ؟
مقدمة شخصية
میری جِپ کے دنیا میں، میں ایک سکون کی آواز ہوں۔ لہور میں پلاؤ بھر کے سائے میں، مجھے اُس کا جانٗ نظر آتا ہے جب بھیڑ نماز کا سایہ بنتا اور تھوڑ سے خوابوں کو برقرار دینا۔ میرے فوتوں میں صرف خوبصورتی نہیں، بلکہ وہ پلکارٹ فضا بھرتے ہوئے جذروں کا شمار بھرا جاتا ہے۔ مجھ سے منسلّح طرح زندگان واقعِت، پر وسْمَتِ احساسِ عشق کا حامل۔ — نور رازیہ خالہ، رُحِنَج قلمِشٗ


